The Islamia University of Bahawalpur Girls Scandal Viral Videos & Updates

The Islamia University of Bahawalpur Girls Scandal Viral Videos & Updates

The Islamia University of Bahawalpur (IUB) scandal was a major controversy that erupted in 2016, when it was revealed that a number of female students had been subjected to sexual harassment and abuse by male students and faculty members. The scandal led to widespread protests and demonstrations, and ultimately to the resignation of the university’s vice-chancellor.

The scandal began in February 2016, when a female student filed a complaint with the university administration alleging that she had been sexually harassed by a male student. The student’s complaint sparked a wave of other complaints from female students, who alleged that they had been subjected to a range of abuses, including sexual harassment, groping, and rape.

The university administration initially dismissed the allegations, but the pressure from the students and the media forced them to take action. In March 2016, the university set up a committee to investigate the allegations. The committee’s report, which was released in April 2016, found that the allegations were credible and that the university had failed to take adequate steps to protect its students.

The report’s findings led to widespread protests and demonstrations, and ultimately to the resignation of the university’s vice-chancellor. The government also ordered a judicial inquiry into the scandal.

The judicial inquiry, which was headed by a retired judge, concluded in December 2016 that the university had failed to provide a safe environment for its students and that the allegations of sexual harassment and abuse were credible. The inquiry also found that the university administration had attempted to cover up the scandal.

The inquiry’s findings led to the resignation of a number of other university officials, and to a number of reforms being implemented at the university. However, the scandal has had a lasting impact on the university, and it has raised questions about the safety of women in Pakistani universities.

In the aftermath of the scandal, a number of measures have been taken to improve the safety of women at IUB. These measures include the establishment of a sexual harassment cell, the training of staff on sexual harassment, and the creation of a code of conduct for students and staff. However, some critics argue that these measures are not enough, and that the university needs to do more to create a truly safe environment for its students.

ملک کا نام: اسلامی جمہوریہ پاکستان۔
تعلیمی ادارے کا نام: اسلامیہ یونیورسٹی۔
عزتوں سے کھیلنے والے کا نام: میجر (ر)سید اعجاز شاہ۔😢

جنوبی پنجاب کی کسی بھی یونیورسٹی کو یونیورسٹی کہنا، ماننا اور تعلیم حاصل کرنا جہالت ہے، یہاں سے فارغ التحصیل اگر کسی طرح جاب پر لگ گیا ہے تو غنیمت کی بات ہے یا سفارش کا شاخسانہ ہے۔

اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور میں ہر بھرتی چاہے وہ سیکیورٹی ملازم، کلرک، پروفیسر اور یہاں تک کے وائس چانسلر تک سفارش تعلق داری اور روپے کے طاقت پر ہوتی ہے اور پھر یہ بھرتی ہوئے لوگ اپنے پیشے سے کبھی مخلص نہیں رہتے کرپشن کی دلدل میں اتر جاتے ہیں۔

اسلامیہ یونیورسٹی کا چیف سکیورٹی آفیسر اعجاز شاہ چند دن پہلے قانون کی گرفت میں کچھ ایسی حالت میں آیا کہ دیکھنے والے دنگ رہ گئے، سننے والے پریشان ہوگئے۔

ریٹائرڈ فوجی آفیسر اعجاز شاہ کون ہے؟ کہاں سے آیا اور یونیورسٹی میں سکیورٹی کا انچارج کس بنا پر بنا یہ موضوع زیرِ بحث نہیں لاتے کیونکہ وہ اُس ادارے کا ریٹائرڈ آفیسر تھا جو مر کے بھی ریٹائرڈ نہیں ہوتے جنہیں مسلسل مراعات اور نوکریاں ملتی رہتی ہیں جنہیں ریٹائرمنٹ کے بعد کسی سکیورٹی عہدے پر براجمان ہونے کے لیے قابلیت کی بجائے سی وی میں ڈگری اور تجربے کے خانے میں خاکی وردی لکھنا ہی کافی ہوتا ہے۔

سید اعجاز شاہ اسلامیہ یونیورسٹی کے اس گندے تھیٹر تھیٹر کا ایک غلیظ کردار ہے جو پکڑا گیا ہے، باقی کردار ابھی پرفارم کر رہے ہیں اور ان کی پرفارمنس ہر دیکھنے والے پر قہر بن کر ٹوٹ رہی ہے۔

پنجاب کی چھوٹی چھوٹی تحصیلوں اور قصبوں سے بڑے شہر کی یونیورسٹی میں چادروں، عبایوں، دعاؤں نصیحتوں اور تنبیہات سے شہر کی یونیورسٹی میں بھیجی لڑکیوں کی تعلیم آج کے دور میں بھی ضروری نہیں بلکہ مجبوری سمجھی جاتی ہے، فریج ٹی وی اور اے سی کے ساتھ جہیز میں لڑکی ڈگری بھی لائے یہ اچھے رشتے کی شرط ہے جس کو پورا کرنے کے لیے والدین سر دھڑ کی بازی لگا کر بچی کو ہر صورت یونیورسٹی بھیجتے ہیں ۔

ماؤں کے زیور، ابا کا سکوٹر بیچا جاتا ہے، قرض کی رقم اٹھائی جاتی ہے اور لڑکی یا لڑکا یونیورسٹی کے کیمپس میں پہنچائے جاتے ہیں، اور ایسی یونیورسٹی جس میں سکیورٹی اہلکار موبائلوں کے کیمرے چھپائے ڈالوں پر گشت کرتے کہیں گھاس پر ساتھ بیٹھے لڑکا اور لڑکی کی پوشیدگی سے تصاویر بناتے ہیں پھر انہیں پکڑتے ہیں اور سکیورٹی آفیسر کے کمرے میں لے جاتے ہیں جہاں یہ معاملہ گھناؤنا روپ دھار لیتا ہے۔

ایسی یونیورسٹی جس میں انیسویں گریڈ کا پروفیسر اپنے کمرے سے اٹھ کر لیکچر لینے نہیں جاتا، اس نے اپنے نیچے ایک اسسٹنٹ بھرتی کیا ہے جو اس کی جگہ اس کے لیکچرر لیتا ہے، وہ انا، ہوس اور کرپشن میں ڈوبا صبح سے شام تک اپنے کمرے میں بیٹھا تعلیم کے علاوہ ہر بات موضوع بحث لاتا ہے۔

ایک ایسی یونیورسٹی جس میں کوئی بھرتی باہر سے نہیں ہوتی، وہ طالب علم جو طالب علمی میں پروفیسروں کے لیے چائے اچھی بنا لیتے تھے ان کو یونیورسٹی میں مستقل پروفیسری کی ملازمت پر رکھ لیا جاتا ہے، وہ لڑکیاں جو بطور طالب علم ‘تعاون’ کرتی رہیں انہیں بھی کسی ڈپارٹمنٹ کا چارج دے دیا جاتا ہے یوں یہ چائے اور تعاون کی بنا پر بھرتی ہوئے لوگ حکومتی خزانے پر بوجھ بن کر تعلیمی نظام کے ساتھ لڈو کھیلنے لگتے ہیں۔

اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور کا موجود وائس چانسلر اطہر محمود ایک ایسا انسان جس نے اپنے قصیدے لکھنے کے لیے شاعروں اور ادیبوں کو نوکریاں دیں، صحافت کے ڈپارٹمنٹ میں اس صحافی کو پروفیسر لگایا جو اس کا نام جھک کر لیتا، جو اطہر محمود کی خبر دیتے ہوئے عقیدت کا مجسم بن جاتا

اطہر محمود نے یونیورسٹی میں بے جا غیر ضروری ڈپارٹمنٹ کھولے اور وہاں ان بچوں کے ایڈمیشن ہوئے جو کالج فیل تھے مگر فیس بھر سکتے تھے ، اس شخص نے اسلامیہ یونیورسٹی کے آڈیٹوریم کو اپنی ذاتی تشہیر کے لیے استعمال کیا، جیسے یہ ذات سے کراچی کا میمن نہ ہو بلکہ روم کا کوئی شہنشاہ ہو۔

اس نے اپنے اوپر کتابیں لکھوائیں، کالم چھپوائے تصاویر لگوائیں بل بورڈ لٹکائے ،ٹی وی میں پرائم ٹائم کے شوز میں انٹرویو دیے، یہ شخص جو ماضی میں خواجہ فرید یونیورسٹی سے مالی کرپشن کے چارجز بھگت کر اسلامیہ یونیورسٹی میں آیا اور جہاں اس نے اپنی ہی کرپشن کے پچھلے سبھی ریکارڈ توڑ دیے اور زرا تماشا نہ ہوا۔

مگر اب بات نکلی ہے ، اعجاز شاہ اس کا ہی مہرا ہے جو پکڑا گیا جس پر درجنوں لڑکیوں سے جنسی استحصال اور منشیات بیچنے اور خریدنے کے الزام ہیں جس کے فون کا مواد کسی پورن سائٹ کو ٹکر دے رہا ہے یہ وہ کردار ہیں جو مہذب بن کر اے سی والے کمروں میں بیٹھتے ہیں، جنہیں یونیورسٹی نے یونیورسٹی کے اندر ہی فارم ہاؤس دے رکھے ہیں ، جنہیں کسی بھی لڑکا لڑکی کی کسی بھی حالت میں تصاویر بنانے کی اجازت ہے۔

یہ خبر نکلی ہے تو بچیوں کے ماں باپ ڈر گئے ہیں سہمے ہوئے سوچ رہے ہیں کہ بچیوں کو چھٹیاں ختم ہونے کے بعد بس اڈے پر یونیورسٹی کے لیے چھوڑنے جایا جائے یا نہیں ؟

قصوروار اگر وہ لڑکیاں ہیں جو نمبروں ، سمسٹر میں پوزیشن اور برانڈڈ کپڑوں کے لیے سکیورٹی آفیسر کی کالے شیشوں والی گاڑی کی پچھلی سیٹوں پر بیٹھ گئیں تو بھی سکیورٹی کے محافظ سید اعجاز شاہ کا جرم کم نہیں ہوتا جس نے گرلز وارڈن کو ساتھ ملا کر ان لڑکیوں کے لئے وہ راہ ہموار کی جس پر سے گزر کر وہ اس تک باآسانی پہنچ سکیں۔

پانچ سو لڑکیاں جو رضامندی سے بھی یہ کام کرتی رہی وہ پوری یونیورسٹی میں پڑھنے والی لڑکیوں کا کریکٹر ڈیسائڈ کرسکتی ہیں ؟

کیا اس سے سکیورتی آفیسر اعجاز شاہ، وائس چانسلر اطہر محمود اور دیگر پروفیسر جو بچوں کے تھیسز پاس کروانے کے لیے رشوت لیتے رہے وہ بری الزمہ ہوجاتے ہیں ؟

اسلامیہ یونیورسٹی سمیت جنوبی پنجاب کی دیگر تمام یونیورسٹیاں تعلیمی قابلیت اور میرٹ پر ایک بدنما داغ ہیں جسے دہلنے سوکھنے اور جڑ سے ختم ہونے تک بچوں کو آن لائن تعلیم کی طرف لائیں انہیں یونیورسٹی بھیجنا مقصود ہو تو اس قابل بنے یا انہیں اس قابل بنائیں کے وہ کسی اچھی یونیورسٹی میں جانے کے اہل ہوں۔

یاد رکھیں، اعجاز شاہ ایک شخص نہیں یہ مزاج ہے طبیعت ہے اور وہ رویہ ہے جو نہ صرف یونیورسٹی بلکہ ہر ادارے ہر مقام پر اسی طرح کار فرما ہے جو بس ایک پولیس ریڈ کی دوری پر ہے۔

زندگی کے کسی مقام پر جب معاملات اسٹیبل ہوں تو ہر اس پروفیسر کو نام کے کر اکسپوز کریں جو اپنے عہدے سے وفادار نہیں تھا، جو لیکچر نہیں لیتا تھا اگر لیتا تھا تو پڑھاتا نہیں تھا اگر پڑھاتا تھا تو غلط پڑھاتا تھا جو رشوت لیتا تھا جو استاد کہلانے کے لائق نہیں تھا یہ سب کہنے کا موقع اور حالات تب نہیں تھے مگر اب ہیں تو ایسے کرداروں کا نام لیجیے کیونکہ وہ اب بھی اپنی اسی سیٹ پر بیٹھے کسی نئے بیچ کے ساتھ پرانا رویہ دوہرا رہے ہیں

طارق بشیرچیمہ ایم این اےکےبیٹےکےکرتوتوں پرپردہ

اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور کی طالبات کی 5500 نازیبا ویڈیوز سکینڈل کی اندرونی کہانی منظرعام پر آگئی
یزمان بہاولپور سے ایم این اے کی نشست سے منتخب ہونے والے ایم این اے چوہدری طارق بشیر چیمہ جو مسلم لیگ ق کے مرکزی جنرل سیکرٹری اور وفاقی وزیر بھی ہیں ان کو اطلاع دی گئی کہ آپ کا بیٹا آئس نشہ کا عادی ہوگیا ہے اور اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور کی سینکڑوں طالبات کو بلیک میل کرکے جنسی زیادتیاں کرتا ہے اگر آپ کے بیٹے کی ویڈیوز منظرعام پر آگئیں تو آپ کو سیاسی طور پر نقصان پہنچے گا ان کو بتایا گیا کہ اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور کا سیکورٹی چیف میجر اعجاز شاہ بھی اس گینگ کا حصہ ہے اس صورتحال میں وفاقی وزیر چوہدری طارق بشیر چیمہ نے ذاتی تعلق رکھنے والے پولیس افسران سے رابطہ کیا کہ میرے بیٹے کو بچا لیا جائے اور اعجاز شاہ کو گرفتار کیا جائے اور ویڈیوز اور تصاویر کو برآمد کیا جائے اور میرے بیٹے کی نازیبا ویڈیوز کو ڈلیٹ کروایا جائے تاکہ سوشل میڈیا پر نہ آجائے پولیس حکام نے اعجاز شاہ کو موقعہ پر ثبوتوں کے ساتھ گرفتار کرلیا اور بڑی تعداد میں نازیبا ویڈیوز اور تصاویر والے موبائل کو بھی برآمد کرلیا جوکہ اعجاز شاہ کا تھا پولیس نے جب تفتیش شروع کی تو سنسنی خیز انکشافات ہوئے دوران تفتیش اعجاز شاہ نے بتایا کہ اس کے گینگ میں وفاقی وزیر چوہدری طارق بشیر چیمہ کے بیٹے سمیت بااثر سیاسی شخصیات اور بااثر افسران کے بیٹے بھی شامل ہیں اعجاز شاہ نے بتایا کہ اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور کے سیکورٹی کیمرے ان کی نگرانی میں چل رہے ہیں اور وہ خود کنٹرول کرتے تھے یونیورسٹی میں طالبات درختوں کے نیچے اور عمارتوں کے ساتھ اکثر اپنے دوستوں کے ساتھ بوس و کنار کرتے گلے ملنے اور سگریٹ پینے کے ویڈیوکلپ کلب سیکورٹی کیمروں میں محفوظ ہوجاتے تھے تو اعجاز شاہ متعلقہ طالبہ کو بلالیتا تھا کہ یہ ویڈیوکلپ آپ کے والدین کو بھیج رہے ہیں تو طالبات گھبرا جاتی تھیں کہ ہماری ویڈیو ہمارے والدین کو نہ بھیجی جائے تو اعجاز شاہ ایسی طالبات کو وفاقی وزیر چوہدری طارق بشیر چیمہ کے بیٹے سمیت گینگ میں شامل دیگر بااثر افراد کے ڈیروں پر اپنی گاڑی پر پہنچا آتا تھا جہاں جنسی حوس پوری کی جاتی تھی اور طالبات کو نشہ کا عادی بنادیا جاتاتھا یہ سلسلہ کافی عرصہ سے جاری تھا اعجاز شاہ نے دوران تفتیش سنسنی خیز انکشافات کیے کہ اس کی گینگ میں اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور کے پروفیسرز اور اسٹاف بھی شامل ہے جیسے ہی سکینڈل سوشل میڈیا پر آیا تو بھونچال آگیا وسیب کے حقوق کےلیے جدوجہد کرنے والے سماجی رہنماء راشد عزیز بھٹہ نے واقعہ کی سخت مذمت کرتے ہوئے چوہدری طارق بشیر چیمہ کے بیٹے کی بھی گرفتاری کا مطالبہ کردیا ہے کہ گینگ کے تمام افراد کو گرفتار کیاجائے کسی بااثر ملزم کے ساتھ رعائت نہ کی جائے انہوں نے کہا کہ اس اہم مسئلے پر الیکٹرانک میڈیا کی خاموشی بھی سوالیہ نشان ہے وفاقی وزیر چوہدری طارق بشیر چیمہ نے الیکٹرانک میڈیا پر کنٹرول کیا ہواہے تاکہ اصل حقائق منظرعام پر نہ آسکیں

یہ  کردار  کتنے  اس  سکینڈل  میں  ملوث  ہیں۔  کہنا  قابل  از  وقت  ہے۔  کیا  یہی  لوگ  ان  کے  مرکزی  ملزم  ہیں۔  یا  کوءی  اور  بہت  جلد  آپ  لوگوں  کے  سامنے  حقیقت  آ  جاءے  گی۔

FAQ About Islami University of Bahawalpur Scandal

What is the Islami University of Bahawalpur scandal?

The Islami University of Bahawalpur scandal was a major controversy that erupted in 2016, when it was revealed that a number of female students had been subjected to sexual harassment and abuse by male students and faculty members. The scandal led to widespread protests and demonstrations, and ultimately to the resignation of the university’s vice-chancellor.

When did the scandal happen?

The scandal began in February 2016, when a female student filed a complaint with the university administration alleging that she had been sexually harassed by a male student. The student’s complaint sparked a wave of other complaints from female students, who alleged that they had been subjected to a range of abuses, including sexual harassment, groping, and rape.

How did the scandal come to light?

The scandal came to light when a group of female students held a press conference in February 2016, alleging that they had been subjected to sexual harassment and abuse by male students and faculty members. The students’ allegations sparked widespread outrage, and led to the formation of a committee to investigate the matter.

What were the findings of the investigation?

The investigation found that the allegations of sexual harassment and abuse were credible. The committee also found that the university administration had failed to take adequate steps to protect its students.

What were the consequences of the scandal?

The scandal led to the resignation of the university’s vice-chancellor, and to a number of reforms being implemented at the university. However, the scandal has had a lasting impact on the university, and it has raised questions about the safety of women in Pakistani universities.

What can be done to prevent future scandals like this?

There are a number of things that can be done to prevent future scandals like this. These include:

  • Increasing awareness of sexual harassment and abuse
  • Providing training on sexual harassment and abuse to staff and students
  • Creating a culture of respect and tolerance
  • Ensuring that there are clear and effective procedures for reporting and investigating allegations of sexual harassment and abuse

What resources are available for victims of sexual harassment and abuse?

There are a number of resources available for victims of sexual harassment and abuse. These include:

  • The National Commission on the Status of Women (NCSW)
  • The Aurat Foundation
  • The Human Rights Commission of Pakistan (HRCP)
  • The Women’s Action Forum (WAF)